Product Image
نبوت کےپانچویں برس کی روداد
دور تشدد سے گزرتے ہوئے
چوتھے برس کے آغاز میں کوہِ صفا سے شروع ہونے والی" فاصدع بما تومر " کی مہم نے گزشتہ ماہ حج میں قریش کو یہ باور کرا دیا کہ محمد(ﷺ)کی کامیابی کا مطلب حجاز میں قایم اُن کی ساکھ اور حکومت ہکا خاتمہ ہے۔ اس برس سردارانِ قریش ابو طالب کے سامنے دو مرتبہ مسئلے کے حل کے لیے آئے مگر کوئی بات نہ بنی۔ نتیجتاً ایمان قبول کرنے والےنوجوانوں کو اپنے قبیلوں میں سختی کا سامنا کرنا پڑا ، غلام اور لونڈیوں پر تو قیامت ٹوٹ گئی۔اس ہنگامہ دار و رسن میں دلیل کے میدان میں کفار اور عرش کے درمیان مکالمہ شروع ہو گیا، وجوب آخرت ، اعتراضات کے جوابات اور حالات پر تبصرے پرسورۃقٓ، سُوْرَةُ الذّٰرِیٰت، سُوْرَةُ الطُّوْر اور سُوْرَةُ اللَّيْل نازل ہوئیں۔ مزید تنزیلات سورةُالْمُؤْمِنُوْن ، سُوْرَةُ السَّجْدَة، سوْرَةُ الشَّمْس، سُوْرَةُ نُوْح، سُوْرَةُ الْقَلَم اور سورۃ البلد یہ پیغام لاتی رہیں کہ جاہلیت کے ساتھ کوئی مصالحت ممکن ہی نہیں ہے! مشرکینِ مکہ نے یہود سے پوچھ کر کچھ سوالات رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیے جن کا جواب سُوْرَةُ الْكَهْف لے کرآئی پھر سُوْرَةُ مَرْ يَم، سُوْرَةُ لُقْمَان، سُوْرَةُ الْعَنْکَبُوْت، سورۃُالْمُؤْمِن [یا سورة غَافِر]، سُوْرَةُ الصّٰٓفّٰتاور سُوْرَةُالْجَاثِيَة پھر سُوْرَةُ النَّجْم اور سُوْرَةُیٰسٓ نازل ہوئی۔اللہ اور اُس کے رسول کی ہدایت پر ایمان کی حفاظت اور اُس کی توسیع کے لیے حبشہ کی جانب مسلمانوں کی ایک معتد بہ تعداد نے ہجرت کر لی۔ اِنھیں ایّام میں سردارانِ قریش کے درمیان سے ، نبی ﷺکے چچا سیّدنا حمزہ ﷜بن عبدالمطلب اور سیّدناعمر بن الخطاب ﷜ ایمان لے آئے اس دور کے ختتام پرجبریل امین﷣ کے ذریعے 'معوذتین' کی شکل میں شرور کا توڑ بھیج دیا۔
[ابواب۳۱تا۵۱]

فہرست ابواب